Imran khan and Murad ali shah

مبارک ہو کراچی والو۔ آپ کے لیے این سی او سی طرز کے ماڈل پر ایک نئی کمیٹی پی سی آئی سی یعنی ’پرووِنشل کوآرڈنیشن اور امپلی مینٹیشن کمیٹی‘ کا اعلان ہو چکا ہے-
اب وفاق، صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کراچی کی قسمت بدلنے کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔ ٹرانسفارمیشن پیکج کے گیارہ سو ارب کا تقریباً ایک تہائی وفاقی حکومت جبکہ باقی صوبائی حکومت اور دیگر ذرائع سے پورا ہو گا-
وقت ہے تین سال کا، جس کے اندر اندر کراچی والوں کے حالات بدلنے ہیں- یقیناً کسی اچھے کام کے آغاز پر نیک تمناؤں کا اظہار ضروری ہے لیکن ساتھ ہی ان رکاوٹوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا بھی لازمی ہے جو کسی عمل کو پٹڑی سے اتار سکتے ہیں۔
سب سے پہلے اس حقیقت کا سامنا ضروری ہے کہ وفاقی حکومت کا مطلب پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت کا مطلب پی پی پی ہے۔ دونوں کی قیادت، خصوصاً کراچی سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز اور پی پی پی کے وزرا کے درمیان جو ’الفت‘ ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں- کورونا جیسے قومی معاملے پر مشترکہ لائحہِ عمل آسان تھا اس کے باوجود جب پی ٹی آئی نے دیکھا کہ مراد علی شاہ اور سندھ حکومت کریڈٹ لے رہے ہیں تو ساتھ ہی بیانات اور الزامات سے ٹمپریچر بڑھا دیا گیا- اب تو کراچی میں روز کا ساتھ ہے- کب تک دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو برداشت کریں گی اس کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں-
اوپر سے ایم کیو ایم بھی اپنی جگہ بنانے کے لیے پیپلز پارٹی کے خلاف سرگرم رہے گی اورساتھ ساتھ پی ٹی آئی کو بھی ٹف ٹائم دیتی رہے گی-
دوسرا بڑا مسئلہ سیاسی اونرشپ کا ہے۔ شہروں کی ترقی ایمرجنسی اقدامت سے نہیں مستقل سیاسی حل سے ہوتی ہے۔ اس سے پہلے جب کراچی میں کچھ خاطر خواہ کام ہوا تو سیاسی قیادت نے نہ صرف پلاننگ بلکہ گراؤنڈ پر کام کیا، اس وقت وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتیں ایک سیاسی اتحاد کا حصہ تھیں اور ایک ہی مارشل لا کی چھتری کے نیچے برسرعمل تھیں۔
اب صورت حال مختلف ہے- کچھ عرصے تک بلدیاتی انتخابات کا شور اٹھے گا جس میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے سے بر سرپیکار ہوں گی۔ پھر دھونس اور دھاندلی کا شور اٹھے گا- اس شور میں کراچی ترقیاتی منصوبہ پسِ پشت اور سیاست پہلی ترجیح ہو گی-
تیسرا چیلنج انتظامی ہے۔ کراچی میں ترقیاتی کام کرنے والے زیادہ محکمے یا صوبائی حکومت کے براہ راست ماتحت اور یا صوبائی مدد کے محتاج ہے۔ زیادہ فنڈز بھی صوبائی حکومت کو نکالنے ہیں۔ اس کا مطلب ہے صوبائی حکومت کی اپنی سکیمیں اور بجٹ متاثر ہو گا۔ وہ ہرگز خوشی سے اپنے منصوبوں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
کیا پی سی آئی سی سب محکموں کے حکام کی تعیناتی اور ان کی کارکردگی پر نظر رکھے گی اور سب سے اہم محکمہ تو خزانے کا ہے جس کا قلم دان خود وزیر اعلٰی کے پاس ہے۔
کیا وہ اپنے اختیارات بخوشی سپرد کر دیں گے؟ اور اگر کر بھی دیں گے تو وفاق، صوبے اور شہری حکومت کے بیچ میں بروقت فنڈز کی دستیابی ایک ہمالائی کام ہی ہو گا۔
چوتھا بڑا چیلنج وقت ہے۔ دو سال میں کچھ نہ کرنے کے بعد اب ایک ہی ہفتے میں ہزار ارب کے منصوبوں کا اعلان تو ہو گیا مگر کیا یہ ڈیڈ لائن حقیقی اور عملی ہے؟
اس سے پہلے کراچی سرکلر ریلوے دہائیوں سے رکا ہوا منصوبہ اور باوجود کئی ڈیڈ لائنز کے ابھی بھی حتمی وقت دور ہے۔ کئی منصوبوں میں ابھی بھی فیزیبیلیٹی اور پلاننگ کی ضرورت ہے۔ کئی منصوبے پرانے اور برسوں پہلے بنائے گئے جبکہ اب زمینی حالات بدل چکے ہیں۔ سب سے بڑا کام بے گھر لوگوں کی بحالی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری اعلان کر چکے ہیں کہ جب تک نئے گھر نہیں بنیں گے لوگوں کو بے گھر نہیں کیا جائے گا۔ صرف بحالی کے کام میں برسوں لگ سکتے ہیں جبکہ کراچی کا بڑا حصہ اب پرائیویٹ اور نیم سرکاری اداروں کے زیرانتظام ہے۔
کراچی کے لیے منصوبے، پیسوں اور وقت کا اعلان تو ہو گیا مگر ان کو عملی جامہ پہنانے میں ابھی بہت چیلنجز ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی قیادت کے سیاسی تدبر کے ساتھ ساتھ انتظامی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہے۔
جس طرح دو سال گزرنے کا نہیں پتا چلا اس طرح اگلے تین سال بھی گزر جانے ہیں اور پھر اگلے الیکشنز سر پر ہوں گے۔ کیا اس وقت ایک نیا کراچی ووٹرز کے سامنے ہوگا؟ اس کے لیے وقت کم ہے اور کام زیادہ بھی اور مشکل بھی۔
نوٹ:پاک نیوزکی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *