پاکستان نے حالیہ دنوں میں سائبر حملوں میں اضافے کے بعد ‘سائبر سپیس’ کو محفوظ بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ‘سائبر سپیس سکیورٹی پالیسی’ پر کام شروع کر دیا ہے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک اعلٰی عہدیدار نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ ‘خطے میں بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کے پیش نظر سائبر سپیس سکیورٹی پالیسی پر کام شروع کر دیا گیا ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا۔’سائبر سپیس سکیورٹی کے تحت پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹا کو بھی کنٹرول کیا جاسکے گا۔
اس حوالے سے سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی شعیب صدیقی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ‘سائبر سپیس سکیورٹی پالیسی پر تیزی سے کام جاری ہے اور تمام تکنیکی رکاوٹیں دور کرنے کے بعد کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔’
انہوں نے مزید کہا کہ ‘اس حوالے سے پالیسی مرتب کی جارہی ہے اور اگر پالیسی پر عمل درآمد کے لیے قوانین کی ضرورت پڑی تو قانون سازی بھی ہوگی۔ اس کے علاوہ تمام فریقین سے بھی مشاورت کی جائے گی۔’
سائبر سپیس سکیورٹی پالیسی کیا ہے؟
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ‘انڈیا کی جانب سے کیے گئے سائبر حملوں میں 100 سے زائد سرکاری افسران کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔’
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی حکام کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنایا جائے گا۔ اس میں مختلف ٹولز، فائر والز اور فلٹرز کو استعمال میں لایا جائے گا جس سے ملک کے انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
وزارت آئی ٹی کے ایک عہدیدار نے پاک نیوز کو بتایا کہ ‘سائبر سپیس سکیورٹی کے تحت پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹا کو کنٹرول کیا جا سکے گا اور اس حوالے سے ضروری قانون سازی بھی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘جیسے کسی بھی ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے لیے اجازت درکار ہوتی ہے اسی طرح پاکستان کے انٹرنیٹ کی حدود سے کسی قسم کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے اجازت ضروری ہوگی اور اگر کوئی ہیک کر کے ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے لیے ‘پرو ایکٹیو’ طریقہ کار سے ان حملوں کو ناکام بنایا جائے گا۔’
انہوں نے بتایا کہ ‘ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے ادارے بھی بنائے جائیں گے جو پاکستان میں تمام انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے کام کریں گے۔’
پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے تحفظ پر کام کرنے والی تنظیم بائٹس فار آل کے سینیئر ریسرچر ہارون بلوچ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان میں اس سے پہلے بھی انٹرنیٹ صارفین کی آواز کو دبانے کے لیے کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور سائبر سپیس سکیورٹی پالیسی بھی بنیادی طور پر پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کا ایک جواز ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘سائبر سپیس سکیورٹی کو محفوظ بنانا ممکن نہیں اور اس حوالے سے بنائی گئی پالیسیوں میں بنیادی طور پر پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹا کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔’
سینیئر ریسرچر ہارون بلوچ نے مزید کہا کہ ‘چین کا ماڈل پاکستان میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں ڈیٹا کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اس سے پہلے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے سرور پاکستان میں لگانے اور دفاتر کھولنے کے حوالے سے رولز میں ترامیم کی کوشش کی گئی لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔’
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں انٹرنیٹ کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پی ٹی اے ( پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی) نے صارفین کو ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) رجسٹر کروانے کی ہدایت کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *