پی ٹی آئی کے سوا تمام جماعتوں کا انتخابات کی شفافیت پراعتراض

parties

کراچی (پاک نیوز) تحریک انصاف کے سوا تمام جماعتوں نے انتخابات کی شفافیت پر اعتراض کیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے صدر شہباز زشریف نے اپنے دیگر رہنماوں کے ہمراہ باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے الیکشن نتائج ماننے سے انکارکیا۔انہوں نے پولنگ عملے کے رویے پرشدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ان کے امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر نتائج تیارکئے گئے، عملے نے انہیں فارم 45 دینے سے بھی انکار کیا ہے جوکہ کھلم کھلا دھاندلی ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی عام انتخابات کی شفافیت پر تحفظات ظاہر کئے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےالیکشن کمیشن پر نتائج نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہےکہ رات 12بجے سے بھی تاخیر ہو چکی ابھی تک سرکاری نتائج نہیں دیئے گئے ہیں ۔جہاں جہاں میں خود انتخاب لڑا وہاں کے نتائج بھی مجھے نہیں دیئے گئے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میرے امیدوار شکایت کر رہے ہیں کہ ان کے پولنگ ایجنٹوں کو اٹھا کر پھینک دیا گیا۔پورے ملک سے ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں سے نکال گیا۔نتائج روکنا اور پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالنا ناقابل معافی ہے۔ دریں اثنا رہنما پیپلز پارٹی رضا ربانی اور شیری رحمن نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت شفاف انتخابات کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔رضا ربانی نے کہا کہ لیاری میں بھی پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹ کو باہر نکالا جارہا ہے، پولنگ ختم ہونے کے بعد سے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو نکالا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرعوامی آراء کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو سنگین نتائج ہوں گے۔شیری رحمن نے کہا کہ پورے انتخابات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، ہمارے پاس 250 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، لیاری میں بلاول بھٹو کے چیف پولنگ ایجنٹ کو باہر نکال دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک تنظیم کےعلاوہ تمام جماعتوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے حامیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، خواتین کے پولنگ اسٹیشنز سے زیادہ شکایات آئیں۔ شیری رحمن نے کہا کہ ہم نے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا، لاڑکانہ سے لیکر لیاری تک ہمیں نتائج نہیں دیے جارہے۔کراچی سے اسٹاف ر پو ر ٹرکے مطابق ملک کی متعدد سیاسی و مذہبی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولنگ کے اختتام پر ان کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشن سے نکال کر نتائج تبدیل کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولا بخش چانڈیو، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ن) کے ترجمان، تحریک لبیک، متحدہ مجلس عمل، پی ایس پی، راہ حق پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولنگ کے اختتام کے بعد ان کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں سے باہر نکال دیا گیا جب کہ فارم45بھی نہیں دیا گیا۔ اس عمل نے تمام انتخابی عامل کو غیرشفاف کر دیا ہے اور انتخابات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان جماعتوں نے کہا ہے کہ ہم اس ضمن میں جلد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ، تحریک لبیک، جے یو آئی نے متعدد علاقوں میں احتجاج بھی کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.