موبائل لوڈ پر حکومت اورکمپنیاں 42 فیصد کٹوتی کرتی ہیں، اٹارنی جنرل کا سپریم کورٹ میں‌ اعتراف

mobile cards

اسلام آباد ( پاک نیوز) موبائل فون کارڈ پر زائد وصولی کےکیس میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ قانون بتایا جائے سیلز ٹیکس کیوں لیا جارہا ہے اور یہ پیسے ہتھیانے کا غیر قانونی طریقہ ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے زائد وصولیوں کے از خود نوٹس کی سماعت کی جس کے سلسلے میں عدالت کی جانب سے طلب کرنے پر اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے موبائل فون کارڈ پر وصولیوں کی تفصیلات عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ری چارج پر 19.5 فیصد سیلز، 12.5 ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جب کہ کمپنیاں 10 فیصد سروس چارج بھی وصول کرتی ہیں۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا یہ استحصال نہیں کہ ٹیکس ادا نہ کرنے پر ودہولڈنگ ٹیکس لیا جاتا ہے؟ یہ ٹیکس کیسے وصول کیا جارہا ہے؟

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وزیر خزانہ کو بلائیں، 14 کروڑ صارفین سے روزانہ ٹیکس کس کھاتے میں لیا جاتا ہے، ہمیں قانون بتائیں سیلز ٹیکس کیوں لیا جارہا ہے؟

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پیسے ہتھیانے کا یہ غیر قانونی طریقہ ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نےکہا کہ موبائل صارفین سے 42 فیصد ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔

سپریم کورٹ نے دنیا کے مختلف ممالک میں کال ریٹ کا تقابلی جائزہ چارٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ وفاق، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور صوبےایک ہفتے میں تحریری جواب جمع کروائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.