سائنسی بریک تھرو، مریخ پر 20؍ کلومیٹر طویل پانی کی جھیل مل گئی

mars

روم (خصوصی رپورٹ) سائنسدانوں نے بالآخر مریخ پر پانی تلاش کر لیا ہے۔ سائنس میگزین کی جانب سے جاری کردہ بریکنگ نیوز میں بتایا گیا ہے کہ اطالوی سائنسدانوں کی ٹیم نے سرخ سیارے کے جنوبی قطب پر پانی کی ایک بہت بڑی جھیل دریافت کر لی ہے۔ 20؍ کلومیٹر تک پھیلی ہوئی یہ جھیل سطح سے صرف ڈیڑھ کلومیٹر نیچے موجود ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جنوبی قطب پر موجود پانی کے ذخائر بالکل ویسے ہی ہیں جیسے زمین پر قطبین پر پھیلی ہوئی برف میں چھپے ہیں۔
نئی دریافت کے بعدامکانات پیدا ہوگئے ہیں کہ مریخ پر زندگی کے آثار بھی ملیں گے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سائنسدان سیٹلائٹس کے علاوہ ریڈار استعمال کرتے ہوئے زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ مریخ پر موجود پانی خوردبینی جرثوموں کی نشونما کیلئے موافق ہے۔
پانی تلاش کرنے والے ماہرین کا تعلق روم کے ادارے اٹالین نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار آسٹرو فزکس سے ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ پانی تلاش کرلیا گیا ہے لیکن مریخ پر ایسے آلات موجود نہیں کہ یہاں کھدائی یا ڈرلنگ کرکے پانی سطح تک لایا جا سکے۔
یونیورسٹی آف سڈنی آسٹریلیا کے ایرو اسپیس انجینئر وارویک ہومز کا کہنا ہے کہ مریخ پر جانے والے مستقبل کے خلائی مشن کو نئی دریافت ہونے والی جھیل سے نمونے حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی۔
پانی کی تلاش یوروپین اسپیس ایجنسی کے مارس ایکسپریس پروب نامی مشن کے اعداد و شمار کے ذریعے ممکن ہو پائی ہے۔ محققین نے اس خلائی جہاز کے جدید ریڈار کو استعمال کرتے ہوئے زیر زمین آواز کی لہریں بھیجیں اور ارتعاش کے ذریعے (Marsis) نامی آلہ استعمال کرتے ہوئے یہ دریافت کی۔
ریڈار کے ذریعے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے 29؍ مختلف نمونے حاصل کیے گئے اور یہ سب کام ساڑھے تین سال کے عرصہ میں ممکن ہو پایا۔
یاد رہے کہ 30؍ سال قبل پہلی مرتبہ ماہرین نے امکان ظاہر کیا تھا کہ مریخ پر پانی موجود ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.