hassan nisar

’وہ تو بہت پیچھے رہ گئے‘ ……کالم حسن نثار

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بندے کو خود تو بات سمجھ آ جاتی ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ آگے کسی اور کو بھی یہ بات سمجھا پائے گا یانہیں۔آج مجھے بھی اک ایسی ہی سچویشن کاسامنا ہے۔یہ ایک بے ضرر سے سیدھے سادے معصومانہ ٹی وی اشتہار کی کہانی ہے ،جسے پہلے پہل تو میں نے باقی ایڈز کی طرح دیکھا اَن دیکھا کردیا یا یوں کہہ لیجئے کہ پوری طرح رجسٹر ہی نہیں ہوا لیکن کل اچانک اس کا اک ایسا پہلو، اک ایسا رخ میرے سامنے آیا جس نے مجھے شاک نہیں تو اداس بہت کردیا اور یہ اشتہار مجھے مسلسل ہانٹ کر رہا ہے۔ اشتہار کچھ یوں ہے کہ ایک ماں اپنی سہیلی کو بتاتی ہے کہ اس کا بیٹا ایکٹو نہیں۔ کچھ تھکا تھکا سا رہتا ہے۔ سہیلی بچے کی ماں سے کہتی ہے کہ ’’شاید تمہارے بیٹے میں فلاں وائٹامن کی کمی ہے۔ اس لئے اسے فلاں شے کھلائو یا پلائو تاکہ یہ کمی دورہو اور تمہارا بیٹا پوری طرح چست و توانا ہوجائے۔‘‘ بچے کی ماں اپنی سیانی سہیلی کے مشورے پرعمل کرتی ہے جس کے نتیجہ میں جلد ہی بچہ ایک دن بھرپور انرجی کے ساتھ سکول سے واپس لوٹتاہے تو ماں کچھ حیران سی ہوکر بچے سےپوچھتی ہے….. ’’تمہارےباقی سکول فیلوز کہاں ہیں؟‘‘انرجی اور احساس تفاخر سے بھرپور بچہ معصومانہ انداز میں ماں کو ’’ڈنڈ‘‘دکھا کر کہتاہے کہ ….. ’’وہ تو بہت پیچھے رہ گئے‘‘ یعنی میں تگڑا ہونے کی وجہ سے پہلے منزل پر پہنچ گیا ہوں۔انسان اور انسانی معاشرے ایسے ہی ہیں جن میں لوگ لوگوںکو نیچے اور پیچھے چھوڑ دینے پر خوش ہوتے ہیں، سیلی بریٹ کرتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ کسی بھی مقابلے میں جب کسی کی جیت کا اعلان ہوتا ہے تو وہ دراصل بہت سوں کی ہار کا اعلان بھی ہوتاہے۔ کسی ایک کی فتح کسی کی شکست بھی تو ہوتی ہے۔ بظاہر اس میں قطعاً کوئی برائی نہیں کہ جو بہتر اور برتر ہے، جس نے زیادہ تیاری کی ہے، وکٹری سٹینڈ پر اسی کا حق ہے یعنی “Survival of the Fittest” لیکن کیا یہ آخری اور حتمی سچائی ہے؟ اور گر ایسا ہی ہے تو پھر جانوروںاور انسانوں کی دنیا میں فرق کیا ہوا؟عجیب سی بات ہے کہ اگر کوئی جسمانی طور پرزیادہ طاقتور ہونے کے باعث کسی کمزور سے کچھ چھین لے تو وہ مجرم ہے لیکن اگرکوئی ذہنی طور پر سپیریئر ہونے کی وجہ سے بہت کچھ لے اُڑے وہ معزز، معتبر اور کامیاب سمجھا جاتا ہے، تو یہ انسانی نہیں حیوانی قسم کا قانون اور انصاف ہے۔ اور یہی وہ مقام اور مرحلہ ہے جہاں انسانی معاشرے کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ ’’نیچے‘‘ اور ’’پیچھے‘‘ رہ جانے والوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔خود آگے نکل جانے پر جشن منانا بجا کہ وہ آپ کا حق ہے لیکن پیچھے …..بلکہ بہت ہی پیچھے رہ جانے والوںکے لئے سوچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ یہی فرق ایک معاشرہ کو خوبصورت اور دوسرے کو بدصورت بناتا ہے۔ ترقی یافتہ اور غیرترقی یافتہ، انسانی اور حیوانی معاشروں میں بھی یہی فرق ہے۔سوال یہ کہ ایسا فرق کیسے پیدا ہوتا ہے؟ کب پیدا ہوتا ہے؟ تو یہ تب پیدا ہوتا ہے جب معاشرے کے دونوں پہیے حکام اور عوام اپنے اپنے فرائض ذمہ داری اور دیانت داری سے ادا کر رہے ہوں۔ عوام یہ کام تب کرتے ہیں جب انہیں اپنے سیاسی، انتظامی، مالی و دیگر حکام ایسا کرتے دکھائی دیں بصورت دیگر وہی نفسانفسی، آپا دھاپی، مار و ماری، دھینگامشتی جو آج ہمارا طرہ ٔ امتیاز ہے۔اوپر والے اربوں کھربوں روپیہ لوٹ کر بیرون ملک پاناما، پاناما اور پارک لین پارک لین کھیلتے ہیں اور ان سے نیچے والے صاف پانی کمپنیوں پر ہاتھ صاف کرکے عوام کو آرسینک زدہ زہریلا پانی پینے پر مجبور کردیتے ہیں یعنی جو نیچے اور پیچھے رہ گئے وہ بری طرح مسلے، کچلے، روندے گئے۔ذرا چند سرخیاں ملاحظہ فرمائیں۔’’صاف پانی کمپنی تحقیقات، کئی ارکان اسمبلی شکنجے میں آئیں گے‘‘’’سابق چیف ایگزیکٹو افسر اور ان کے ساتھی معطل کئے گئے۔ افسروں نےنیب کو حقائق بتا دیئے‘‘’’ممبران اسمبلی کی بھی انکوائری کی جائے گی‘‘’’ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، عظمی، عاصم اور خولہ امجد کو بھی نیب کے سامنے پیش ہونا پڑے گا‘‘جن کے ’’وائٹامنز‘‘ پورے ہو جاتے ہیں وہ اپنی اپنی منزلوں پر پہنچ کر باقی عوام کے بارے میں یہ فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ…..’’وہ تو بہت پیچھے رہ گئے‘‘اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ اشتہار گزشتہ 70سال سے چل رہا ہے لیکن کب تک؟ یہ ڈاکو راج کب تک؟ (بشکریہ روزنامہ جنگ)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.