khusro bukhtiar

جنوبی پنجاب کی سیاست میں تبدیلی آگئی، جنوبی پنجاب محاذ کا پی ٹی آئی میں ضم ہونے کا فیصلہ

اسلام آباد (پاک نیوز رپورٹ) جنوبی پنجاب کی سیاست میں‌بہت بڑی پیشرفت ہوگئی، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنما عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی میں ضم ہونے کا اعلان کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ تحریک انصاف اور صوبہ جنوبی پنجاب محاذ میں بیک ڈور ڈوپلومیسی کے 10سے زاٰئد ادوار ہوئے جس کے بعد دونوں کے درمیان انتخابی اتحاد کی شرائط طے پائیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خسرو بختیار نے 9 اپریل کو پارٹی چھوڑنے اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کیا جب کہ پریس کانفرنس میں (ن) لیگ کے 8 ایم این ایز اور 2 ایم پی ایز نے پارٹی سے استعفیٰ دیا۔
مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کے بعد تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور اس سلسلے میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں کمیٹی مذاکرات کررہی تھی۔

ذرائع کے مطابق انتخابی مہم میں جنوبی پنجاب محاذ کے امیدوار نئے صوبے کا جھںڈا اور لوگو بھی ہمراہ رکھیں گے، پی ٹی آئی حکومت ملنے کی صورت میں پہلے 100 دن میں نئے صوبے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی پابند ہوگی۔

ذرائع نےبتایا کہ جنوبی پنجاب محاذ کے 20 سے زائد ارکان کل عمران خان سے ظہرانے پر ملاقات کریں گے، ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔
تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے اس حوالے سےنجی ٹی وی سے گفتگو میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سےمذاکرات کامیاب ہونے کی تصدیق کی۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ خسرو بختیار اور دیگر رہنماؤں سےکافی عرصے سے مذاکرات جاری تھے جن میں پی ٹی آئی کے 29 اپریل کےجلسے کےبعد تیزی آئی تھی۔
انہوں نےکہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سے درخواست کی تھی کہ اکٹھے ہوکر صوبے کے لیے کوشاں ہوں اور اسے کامیاب بنائیں۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ کل ایک تاریخی دن ہے جس میں جنوبی پنجاب کے نئے روشن مستقبل کا اعلان ہوگا، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والے تحریک انصاف میں ضم ہوں گے، ، عمران خان کل جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں کےپاس جائیں گے جہاں پریس کانفرنس ہوگی۔
پی ٹی آئی رہنما نےکہا کہ ہم مل کر الیکشن لڑیں گے جو (ن) لیگ کو بڑا جھٹکا ہے، (ن) لیگ کا وجود جنوبی پنجاب میں بہت کم رہ گیا ہے اور پیپلزپارٹی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔جہانگیر ترین کا کہنا تھاکہ یہ ہماری پارٹی کے لیڈنگ ممبران ہوں گے، پارٹی کو ان کی ضرورت ہے اور ان کے سیاسی تجربے سے فائدہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں