uno

جنسی ہراسگی کی وباء اقوام متحدہ تک جاپہنچی، عملے اور امن دستوں سے متعلق درجنوں شکایات

جنیوا (پاک نیوز رپورٹ ) اقوام متحدہ کے مطابق سن 2018ء کے ابتدائی تین ماہ میں اسے اپنے عملے اور معاون غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف جنسی ہراسگی کی 54 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ مبینہ طور پر متاثرہ خواتین میں سے 13 کی عمریں 18 سال سے بھی کم ہیں۔
جنسی ہراسگی کے مبینہ طور پر یہ تمام الزامات اقوام متحدہ کے ملازمین، امن دستوں اور اقوام متحدہ کے مختلف پروگرام نافذ کرنے میں مدد دینے والی غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنان پر عائد کیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں اب تک 66 متاثرہ افراد سامنے آچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ڈپٹی ترجمان فرحان حق نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کی ترجیحات میں اس سنگین عمل سے متاثر ہونے والوں کی مدد اور انہیں خود مختار بنانا شامل ہے۔ اب تک دو الزامات کی شہادتیں موصول ہو چکی ہیں تاہم فرحان حق نے اس حوالے سے نا تو کوئی تفصیل مہیا کی اور نا ہی اس پر اٹھائے جانے والے اقدام کے حوالے سے کچھ بتایا۔
فرحان حق کے مطابق اس برس جو کیس سامنے آئے ہیں، ان میں 21 پارٹنر آرگنائزیشن کے ملازمین، 18 اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور پروگراموں کے ملازمین اور 14 امن دستوں کے اہلکاروں کے خلاف شکایات شامل ہیں۔

حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کے امن دستے خصوصی طور پر سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزر رہے ہیں اور اس کی وجہ بڑے پیمانے پر ان کے خلاف زیادتی اور جنسی تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں